Saturday, August 30, 2025
Homeinternationalرہبر معظم سید علی خامنہ ای امت مسلمہ کے ناقابل تسخیر سپاہ...

رہبر معظم سید علی خامنہ ای امت مسلمہ کے ناقابل تسخیر سپاہ سالار ہیں، مفتی گلزار نعیمی

فلسطین کی آزادی، صیہونیت کی شکست اور وحدت امت کا استعارہ — مفتی گلزار احمد نعیمی کا بیان

نیشنل کمیشن فار مائنورٹیز کے ممبر، مرکزی صدر جماعت اہل حرم پاکستان، اور پرنسپل جامعہ نعیمیہ اسلام آباد مفتی گلزار احمد نعیمی نے کہا ہے کاسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر حضرت سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ امت مسلمہ کے ایک عظیم رہنماء ہیں۔ دورِ حاضر میں ان جیسا بے باک اور بہادر لیڈر امت مسلمہ میں کوئی نہیں ہے۔ ان کا کردار امت مسلمہ کے تحفظ، دفاع اور استقامت کے حوالے سے بے مثال ہے۔ اسی طرح قبلہ اول کی آزادی کے حوالے سے بھی ان کا کردار نہایت ہی مؤثر اور تاریخی ہے۔ وہ صرف ایک نظریاتی رہنماء نہیں ہیں بلکہ ایک عملی اور مزاحمتی رہنماء کے طور پر پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔ ایرانی رہبر نے وحدت امت اور بیداری امت میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ وحدت امت پر بہت زور دیا ہے۔ وہ شیعہ سنی اختلاف کو دشمنان اسلام کی ایک گہری سازش قرار دیتے ہیں۔ اپنے خطابات میں انہوں نے مسلمانوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع رہنے کا کہا ہے۔

انہوں نے اپنے خطبات میں ہمیشہ یہ کہا ہے کہ مسلمانوں کو صیہونیت، صیہونی ریاست اور اس کے سرپرستوں امریکہ اور یورپ کے مقابلہ میں کھڑا ہونا چاہیئے۔ انہوں نے ارض فلسطین کو امت کا دل قرار دیا ہے اور مسئلہ فلسطین کو امت کے اہم اور مرکزی مسئلے کے طور پر دیکھا ہے۔ وہ پوری دنیا میں ہر سال یوم القدس کو منانے کا درس دیتے ہیں۔

حضرت سید علی خامنہ ای کا موقف صیہونی ظالمانہ ریاست اسرائیل کے حوالے سے ہمیشہ جرات مندانہ اور بہت واضح رہا ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ اسرائیل امت مسلمہ کے جسم پر کینسر کا ایک پھوڑا ہے، جو بہت جلد ختم ہو جائے گا۔ امریکہ، یورپ اور بعض اسلامی ممالک بھی مسئلہ فلسطین کا حل دو ریاستی فارمولے کو ہی سمجھتے ہیں جبکہ رہبر معظم نے اس دو ریاستی حل کو ہمیشہ مسترد کیا ہے اور ان کا اس سلسلے میں نقطہ نظر بہت واضح ہے۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ فلسطین صرف اور صرف فلسطینیوں کا ہے۔ وہ مکمل فلسطین “من النہر الی البحر” (نہر سے بحر تک) کی بات کرتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے حضرت سید علی خامنہ ای کی قیادت میں آزادئ فلسطین کے لیے کام کرنے والی مزاحمتی جماعتوں حماس، حزب اللہ، اسلامی جہاد اور یمن کی انصاراللہ کو ہر طرح کی مدد پہنچائی، تاکہ وہ صیہونیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں۔ ان تنظیموں نے اسرائیل کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔

ان جماعتوں کی قربانیوں کے نتیجے میں اسرائیل کمزور ہوا اور ماہ جون 2025ء کی بارہ روزہ جنگ میں ایران نے اسرائیل کو دردناک شکست دی۔ یہ حضرت سید علی خامنہ ای کی قیادت ہی ہے، جس نے اسرائیل کے ارد گرد مزاحمتی بلاک کو بہت مضبوط کیا ہے۔ ایران اسرائیل جنگ میں رہبر معظم نے اپنی عسکری قوت کو جس طرح لڑایا اور جس طرح اپنی عوام کو مطمئن رکھا اور اتحاد و یگانگت کی فضا کو بھی برقرار رکھا، وہ آپ کی عظیم قیادت کا ناقابل تردید ثبوت ہے۔

آج پوری دنیائے اسلام امریکہ کے سامنے اس کی وفاداری میں سربسجود ہے اور ابراہیمی معاہدے کی حمایت میں رطب اللسان ہے، مگر حضرت علی خامنہ ای اسرائیل کے مقابلے میں فلسطینی عوام کے ساتھ ڈٹ کھڑے ہیں۔ وہ نارملائزیشن کو ایک بڑی خیانت قرار دے رہے ہیں۔ وہ فلسطین میں جہاد کرنے والے تمام گروہوں کو امداد فراہم کر رہے ہیں اور ان کے شہیدوں کو “شہداء اسلام” قرار دے رہے ہیں۔

رہبر معظم کی قائدانہ صلاحیتوں کا پورا عالم اسلام معترف ہوگیا ہے۔ اب وہ صرف ایران کے ہی رہنماء نہیں رہے بلکہ پورے عالم اسلام کے لیڈر بن چکے ہیں۔ ایرانی حکام نے ان کی تقاریر اور ملفوظات کو دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا ہے، جس کی بدولت نوجوان نسل کو رہبر کے نظریات سے شناسائی حاصل ہوئی ہے۔ نوجوان نسل ان کے قریب آئی ہے اور انہیں ایک اسلامی ہیرو کے طور پر دیکھنے لگی ہے۔

وہ اسلامی انقلاب کے روحانی وارث کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ عالم اسلام کے تمام مظلوموں کی بات کرتے ہیں۔ وہ فلسطین، کشمیر اور یمن کے علاوہ دنیائے اسلام کے تمام مظلوموں کی دستگیری کرتے ہیں۔ وہ اہل اسلام میں بیداری کی تحریک بپا کر رہے ہیں۔ وہ استعمار، استکبار اور صیہونزم کے مقابلے میں ایک مضبوط بیانیے کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت نے پوری امت کے عوام کو اسلام مخالف قوتوں کے مقابلے میں متحد کر دیا ہے۔

دشمنوں کے خلاف انہوں نے بہت مضبوط صف بندی کی ہے۔ انہوں نے امت کو وحدت کا پیغام دیا، اسرائیل کو فکری اور عسکری دونوں محاذوں پر شکست فاش دی۔ ان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مغربی قوتوں خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی شاطرانہ چالوں کو تشت از بام کیا ہے۔

آج ان کو شہید کرنے کی منصوبہ بندی بھی اسی وجہ سے کی جا رہی ہے کہ انہوں نے اسلام مخالف قوتوں کا بہت احسن طریقے سے راستہ روکا ہے۔ امریکہ عالم اسلام کو مکمل شکست دینے اور اسے غلام بنانے کے لیے بڑی سرعت سے آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ رہبر معظم کو اس راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے، اس لیے انہیں راستے سے ہٹانا چاہتا ہے۔

اب یہ ہمارا فرض ہے کہ بطور مسلم ہم اپنی ذمہ داریوں کا شعور حاصل کریں اور ان کو بطریقہ احسن ادا بھی کریں۔ ہمیں امت میں یہ شعور بیدار کرنا ہوگا کہ رہبر معظم پر حملہ صرف ایران پر حملہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے عالم اسلام پر حملہ ہے۔ یہ فلسطین پر حملہ ہے اور یہ غزہ پر حملہ ہے۔

ہمیں اپنے معاشروں میں فرقہ واریت سے بالا تر ہوکر مزاحمت و مقاومت کی حمایت کرنی ہوگی۔ علماء اور خطباء اپنے خطبوں میں، لکھاری اپنی تحریروں میں، اینکرز اپنے پروگراموں میں اور سیاسی قائدین اپنی تقریروں میں اسرائیل کے مظالم اور اس کی بربریت کو اجاگر کریں۔

رہبر معظم اس وقت قبلہ اول کے جانثار سپاہی اور مزاحمت کا ایک عظیم استعارہ ہیں۔ ان کے خلاف کسی قسم کی جارحیت پوری امت کے خلاف اعلان جنگ تصور ہوگا۔ رہبر اب ایک علاقائی اور صرف ایرانی لیڈر نہیں ہیں، وہ پوری امت اسلامیہ کی مزاحمتی علامت ہیں۔ اگر اسرائیل انہیں شہید کرنا چاہتا ہے تو اس کا بالکل واضح مطلب یہ ہے کہ وہ حق کی آواز کو خاموش کرنا چاہتا ہے۔

اس لیے بطور امت ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ ان کی زندگی کا تحفظ اب صرف ایرانیوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ذمہ داری پوری امت کے کندھوں پر ہے۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے۔ اس کی بنیاد کلمہ طیبہ ”لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پر رکھی گئی ہے۔ ہم مسلمانانِ برصغیر نے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی آزادیٔ فلسطین کے عظیم کاز کی مکمل حمایت کی ہے۔ آج بھی پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کا اعزاز رکھتا ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ رہبر معظم کی حمایت، فلسطین کی مدد ہے۔

اسرائیلی دھمکیوں کے سامنے خاموش رہنا بہت بڑی بزدلی اور غداری ہے۔ ہمیں اسرائیل کے خلاف مضبوط بیانیہ تشکیل دینا ہوگا اور اپنی جوان نسل کو کذب و افتراق سے نکال کر انہیں بالکل سچ بتانا ہوگا۔

مقالات ذات صلة

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

بیشتر دیکھے جانے والی

تازہ ترین خبریں